تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید

بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں طلبہ، والدین اور سماجی کارکنان تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس نے طلبہ کے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم احتجاجی مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں ڈٹے رہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نوجوان تحریک کی قیادت میں طلبہ، والدین، سیاسی اور سماجی کارکنان نے تعلیمی اصلاحات کے لیے بھارتی پارلیمنٹ کا رخ کیا۔ یہ احتجاج سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کو مبینہ طور پر زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کے باوجود پولیس کارروائی کے بعد تحریک نے وزیر تعلیم کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل کر لیا ہے۔تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ سونم وانگچک کے خلاف کارروائی قابل مذمت ہے، اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اب احتجاج مزید وسیع ہو رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے معاملے، لاکھوں طلبہ کے متاثر ہونے اور متعدد طلبہ کی خودکشیوں نے نوجوان نسل میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں تعلیمی نظام کے مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کو درپیش مشکلات نے حکومت کے لیے نئے سیاسی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔