تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید

بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں طلبہ، والدین اور سماجی کارکنان تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس نے طلبہ کے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم احتجاجی مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں ڈٹے رہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نوجوان تحریک کی قیادت میں طلبہ، والدین، سیاسی اور سماجی کارکنان نے تعلیمی اصلاحات کے لیے بھارتی پارلیمنٹ کا رخ کیا۔ یہ احتجاج سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کو مبینہ طور پر زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کے باوجود پولیس کارروائی کے بعد تحریک نے وزیر تعلیم کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل کر لیا ہے۔تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ سونم وانگچک کے خلاف کارروائی قابل مذمت ہے، اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اب احتجاج مزید وسیع ہو رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے معاملے، لاکھوں طلبہ کے متاثر ہونے اور متعدد طلبہ کی خودکشیوں نے نوجوان نسل میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں تعلیمی نظام کے مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کو درپیش مشکلات نے حکومت کے لیے نئے سیاسی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔