تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان

حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان

ریاض( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اور یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی حملے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں حوثی تنظیم کے بحری ناکہ بندی سے متعلق اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب پر عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سعودی عرب یمنی عوام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اتحاد کے مطابق اگر حوثیوں کی جانب سے کسی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حوثی تنظیم انصار اللہ نے گزشتہ روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر مبینہ پابندیوں اور محاصرے کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعا ایئرپورٹ کی بندش ناقابل قبول ہے اور اس کا جواب بھی اسی نوعیت کے اقدامات سے دیا جائے گا۔واضح رہے کہ چند روز قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ بعد ازاں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف میزائل حملے بھی کیے گئے، تاہم سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کو دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ آبی راستہ دنیا کے اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔