تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن( کامرس ڈیسک) ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث ملک میں تیل کی دستیابی 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔بینک آف امریکا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں موجود تیل کے ذخائر سے تقریباً 43 دن کی سپلائی باقی رہ گئی ہے، جو جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور سٹریٹیجک تیل ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ پانچ سال کی اوسط سطح سے تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔اسی طرح سٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو بھی 18 جولائی تک کم ہو کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے مجموعی تیل ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتے ہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق ذخائر میں مسلسل کمی عالمی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور امریکا کی توانائی پالیسی کے لیے اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔