تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن( کامرس ڈیسک) ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث ملک میں تیل کی دستیابی 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔بینک آف امریکا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں موجود تیل کے ذخائر سے تقریباً 43 دن کی سپلائی باقی رہ گئی ہے، جو جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور سٹریٹیجک تیل ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ پانچ سال کی اوسط سطح سے تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔اسی طرح سٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو بھی 18 جولائی تک کم ہو کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے مجموعی تیل ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتے ہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق ذخائر میں مسلسل کمی عالمی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور امریکا کی توانائی پالیسی کے لیے اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔