کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے نورستان میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف حادثات میں کم از کم 20 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ 100 سے زیادہ افراد تاحال لاپتا ہیں۔افغان حکام کے مطابق سیلاب نے صوبائی دارالحکومت پارون اور ملحقہ علاقوں کو شدید متاثر کیا، جہاں پانی کے تیز بہاؤ نے مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو بہا دیا۔افغانستان کی قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق امدادی اداروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پارون شہر میں دریا کے کنارے قائم بازار مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ جہاں پہلے دکانیں اور ہوٹل موجود تھے، وہاں اب ملبہ، کیچڑ اور بڑے پتھر نظر آ رہے ہیں۔حکام کے مطابق سیلاب سے متعدد ہوٹل، درجنوں دکانیں، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔افغان ڈیزاسٹر ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں اور طوفانوں کا امکان ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور سیلابی خطرے والے علاقوں سے دور رہیں اور انتظامیہ کی حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔نورستان پاکستان کی سرحد سے متصل ایک پہاڑی صوبہ ہے، جہاں مون سون کے دوران اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات عام ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ سیلاب خطے کے حالیہ برسوں کے بڑے قدرتی سانحات میں شامل ہو سکتا ہے۔