تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

 غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے غزہ کے وسطی علاقے میں کیے گئے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہوگئے جن میں ماں، باپ اور ان کا چھ ماہ کا معصوم بچہ شامل ہے۔یہ حملہ نصیرات مہاجر کیمپ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت محمد ابو ملوح، ان کی اہلیہ علاء زقلان اور ان کے چھ ماہ کے بچے اسامہ کے نام سے ہوئی ہے۔عینی شاہدین اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت خاندان اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ اچانک عمارت پر راکٹ آ گرا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔بچے کی دادی ام حمزہ ابو ملوح نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنی اہلیہ اور ننھے بچے کے ساتھ بستر پر سو رہا تھا جب حملہ ہوا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں تین افراد شہید ہوگئے جبکہ گھر میں چھ کم سن بچیاں رہ گئیں۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ مہاجر کیمپ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک طبی مرکز کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک اور فلسطینی شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حملوں سے قبل کسی قسم کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی گئی، حالانکہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات بھی دیے جا رہے تھے۔یاد رہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے مکمل طور پر بند نہیں ہو سکے۔ امریکی صدر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی فریقین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔غزہ کے طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہونے والے حملوں میں تقریباً آٹھ سو اسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔