تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

 غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے غزہ کے وسطی علاقے میں کیے گئے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہوگئے جن میں ماں، باپ اور ان کا چھ ماہ کا معصوم بچہ شامل ہے۔یہ حملہ نصیرات مہاجر کیمپ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت محمد ابو ملوح، ان کی اہلیہ علاء زقلان اور ان کے چھ ماہ کے بچے اسامہ کے نام سے ہوئی ہے۔عینی شاہدین اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت خاندان اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ اچانک عمارت پر راکٹ آ گرا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔بچے کی دادی ام حمزہ ابو ملوح نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنی اہلیہ اور ننھے بچے کے ساتھ بستر پر سو رہا تھا جب حملہ ہوا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں تین افراد شہید ہوگئے جبکہ گھر میں چھ کم سن بچیاں رہ گئیں۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ مہاجر کیمپ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک طبی مرکز کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک اور فلسطینی شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حملوں سے قبل کسی قسم کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی گئی، حالانکہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات بھی دیے جا رہے تھے۔یاد رہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے مکمل طور پر بند نہیں ہو سکے۔ امریکی صدر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی فریقین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔غزہ کے طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہونے والے حملوں میں تقریباً آٹھ سو اسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔