تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق

 غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے غزہ کے وسطی علاقے میں کیے گئے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہوگئے جن میں ماں، باپ اور ان کا چھ ماہ کا معصوم بچہ شامل ہے۔یہ حملہ نصیرات مہاجر کیمپ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت محمد ابو ملوح، ان کی اہلیہ علاء زقلان اور ان کے چھ ماہ کے بچے اسامہ کے نام سے ہوئی ہے۔عینی شاہدین اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت خاندان اپنے گھر میں سو رہا تھا کہ اچانک عمارت پر راکٹ آ گرا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔بچے کی دادی ام حمزہ ابو ملوح نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنی اہلیہ اور ننھے بچے کے ساتھ بستر پر سو رہا تھا جب حملہ ہوا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں تین افراد شہید ہوگئے جبکہ گھر میں چھ کم سن بچیاں رہ گئیں۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ مہاجر کیمپ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک طبی مرکز کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک اور فلسطینی شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حملوں سے قبل کسی قسم کی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی گئی، حالانکہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات بھی دیے جا رہے تھے۔یاد رہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے مکمل طور پر بند نہیں ہو سکے۔ امریکی صدر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی فریقین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔غزہ کے طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہونے والے حملوں میں تقریباً آٹھ سو اسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔