تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

بنگلادیش کا پاسپورٹ پالیسی میں نیا فیصلہ، ’سوائے اسرائیل‘ کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا اعلان

بنگلادیش کا پاسپورٹ پالیسی میں نیا فیصلہ، ’سوائے اسرائیل‘ کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا اعلان

بنگلادیش( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش کی حکومت نے جنرل پاسپورٹس میں دوبارہ یہ عبارت شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ “یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، سوائے اسرائیل کے۔” یہ اقدام فلسطین کے مسئلے پر ملک کی روایتی خارجہ پالیسی اور عوامی جذبات کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ سفارتی پاسپورٹس میں اس ہدایت پر پہلے ہی عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ عام پاسپورٹس میں بھی جلد اس شق کو بحال کر دیا جائے گا۔وزارت داخلہ اور محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ فیصلہ بنگلادیش کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ملک کے اسرائیل کے ساتھ نہ ماضی میں سفارتی تعلقات رہے ہیں اور نہ ہی اس وقت موجود ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2021 میں ای پاسپورٹ نظام کے آغاز کے دوران یہ عبارت ہٹا دی گئی تھی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی تھی۔حکام کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کے ساتھ پاسپورٹ ڈیزائن اور واٹر مارک میں بھی بعض ترامیم کی جا رہی ہیں، جن میں تاریخی اور سیاسی علامات کی عکاسی کرنے والی تصاویر کی تبدیلی بھی شامل ہے۔