پشاور (پاکستان خبر) وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، جبکہ مخصوص علاقوں میں محدود پیمانے پر آپریشن کیے جائیں گے۔پشاور میں اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور وفاقی حکومت اس کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا بنیادی مقصد بھی دہشت گردی پر قابو پانا ہے۔انہوں نے کہا کہ نامزد 12 اضلاع کا انتظامی یونٹس سے کوئی تعلق نہیں اور وہاں محدود پیمانے پر مخصوص آپریشن ہوں گے، تاہم کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے تعاون کے بغیر دہشت گردی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پی ٹی آئی کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کو بارہا حالات خود قابو میں رکھنے اور مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسائل دھمکیوں سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل ہوتے ہیں۔ پرویز خٹک کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی دونوں حکومتوں کے پاس نہ کوئی وژن تھا اور نہ واضح سوچ، تاہم انہیں امید ہے کہ اب حالات بہتر ہوں گے اور اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وہ گورنر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے دوران گرفتاریاں ہوتی ہیں اور پی ٹی آئی نے خود ایسے حالات پیدا کیے ہیں۔