تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)بین الاقوامی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، برینٹ خام تیل 1.32 فیصد بڑھ کر 115.37 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل 1.48 فیصد اضافے کے بعد 101.36 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستانی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث ملک کا درآمدی بل تیزی سے بڑھ رہا ہے۔مہنگے خام تیل کی خریداری کے باعث ستمبر 2026 میں پاکستان کی درآمدات گزشتہ 51 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس دوران ملکی درآمدی بل 6 ارب 17 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا، جبکہ مجموعی درآمدات تقریباً 6.2 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات اور غذائی اشیاء کی درآمدات میں اضافے نے درآمدی اخراجات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے درآمدی اخراجات پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درآمدی بل ملکی معیشت اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔