پشاور (پاکستان خبر)پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے، مذاکرات ہوئے تو کھل کر کیے جائیں گے۔ایک بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ہونے والی باتیں پارٹی کا اندرونی معاملہ ہیں، تاہم پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان خلیج کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ہوا ہے۔شوکت یوسفزئی کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات میں بہت تاخیر کی گئی، جبکہ محمود خان اچکزئی پر عدم اعتماد سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر صوبے کے ساتھ غیرمنصفانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا کے تمام واجبات فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سہیل آفریدی، جنید اکبر اور بابر سلیم سواتی کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رہنما کسی مقدمے میں مطلوب ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔پی ٹی آئی رہنما نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا بہانہ بنا کر منتخب حکومت ختم کی گئی، جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ضروری ہے۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودگی کا سب سے زیادہ فائدہ یوٹیوبرز کو ہورہا ہے، جبکہ پارٹی 3 سال گزرنے کے باوجود اپنے بانی کو کوئی ریلیف دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان