کراچی (پاکستان خبر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سوال اٹھایا ہے کہ عالمی بحران کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کے باوجود آئل ریفائنریز کے منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، مہنگے پیٹرول اور بجلی کی بندش نے عوام اور صنعتوں کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کی ذمہ داری عوام کو ریلیف دینا ہے، لیکن حکومتی اقدامات بحران میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک پر حکومت کرنے والے طبقات ناکام ہوچکے ہیں، جبکہ بیوروکریسی اور بااثر مافیا بحرانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عوام مشکلات برداشت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جارہی۔ حکومت اس مد میں 150 ارب روپے وصول کررہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے پر صرف 21 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ حکومت نے ریلیف پروگرام کا دائرہ بڑھانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم لیوی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ نومبر کے وسط میں متوقع ہے، جس کا حتمی فیصلہ اس وقت کی صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتیں بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہورہی ہیں۔امیر جماعت اسلامی کے مطابق شرح سود میں اضافے سے معیشت پر بوجھ بڑھتا ہے، جس کا سامنا عوام اور کاروباری طبقے کو کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک حکومت کو عوام کے پیسوں سے قرض دیتے ہیں، جبکہ حکومت لیوی کے ذریعے رقم وصول کرکے ادائیگیاں کرتی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کی کہ وہ مافیا کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت جاگیرداروں اور چینی، آٹا، گیس اور ریفائنری مافیا کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے بقول بحران کے دوران آئل ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈیلرز کے منافع میں اضافہ ہوا، جبکہ اس کا بوجھ عوام نے برداشت کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ناجائز منافع خوری روکنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگے پیٹرول اور بجلی کے باعث بڑی اور چھوٹی صنعتیں متاثر ہورہی ہیں، جبکہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے ساتھ اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔ ان کے مطابق ایل پی جی کی قیمت تقریباً 250 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف آپریشن کرنا نہیں بلکہ بازاروں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف دینا بھی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ میں 0.5 فیصد اضافے سے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ حکومت نے شرح سود سنگل ڈیجٹ میں لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اضافے سے کاروباری طبقے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے اسباب سے آگاہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کررہی۔