واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کی تیاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکا نے خلیجی ممالک کو بھی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کو کمزور کرنے اور مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری کررہے ہیں۔رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کررہی ہے، جبکہ خطرے سے دوچار اڈوں سے اہلکاروں کو منتقل کرنے کے ساتھ گولہ بارود کے ذخائر بھی دوبارہ بھرے جارہے ہیں۔ بمبار اور لڑاکا طیاروں کو ممکنہ حملوں کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔اخبار کے مطابق ایک اضافی طیارہ بردار بحری بیڑے اور میرینز پر مشتمل مہماتی یونٹ کی آئندہ ماہ مشرق وسطیٰ میں تعیناتی متوقع ہے، جہاں پہلے ہی امریکی بحریہ کے تقریباً 20 جنگی جہاز موجود ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے تاحال حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ حملوں میں ایرانی بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے حساس فوجی منصوبوں پر بات نہیں کرتا جو ممکن ہے موجود ہوں یا نہ ہوں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھے ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ نے ٹیکساس کے شہر لببوک میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ایران 1979 سے امریکا کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدور کو کئی دہائیاں پہلے ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت تباہ کردی گئی اور اسے فوجی و مالی محاذوں پر شکست دی گئی۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے متعلق صورت حال چند ہفتوں میں واضح ہوسکتی ہے اور یہ معاملہ جب چاہیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافے کا دعویٰ بھی کیا اور اشارہ دیا کہ اس آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرکے آبنائے ٹرمپ رکھا جاسکتا ہے۔ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں