تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر موجودہ ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی کم کر کے 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق عالمی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دینے پر غور جاری ہے۔حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود ختم ہونے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے گی۔