تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر موجودہ ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی کم کر کے 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق عالمی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دینے پر غور جاری ہے۔حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود ختم ہونے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے گی۔