تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ٹیکس کمی کی تجویز، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی امید

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر موجودہ ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی کم کر کے 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق عالمی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دینے پر غور جاری ہے۔حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود ختم ہونے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے گی۔