تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

عیدالاضحیٰ پر 74 لاکھ سے زائد جانور قربان، کھالوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی

عیدالاضحیٰ پر 74 لاکھ سے زائد جانور قربان، کھالوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان میں اس سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔گزشتہ سال یہ تعداد 69 لاکھ 77 ہزار سے زائد تھی، جبکہ اس سال اضافہ مویشی منڈیوں کی سرگرمی اور قربانی کے رجحان میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس سال قربان کیے گئے جانوروں میں 27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیل، 42 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ شامل ہیں۔ بکرے سب سے زیادہ قربان کیے جانے والے جانور رہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھالوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا گیا۔ گائے اور بیل کی کھال کی اوسط قیمت تقریباً 2200 روپے رہی، جبکہ بکرے کی کھال 600 روپے، بھیڑ کی کھال 100 روپے اور اونٹ کی کھال تقریباً 2000 روپے میں فروخت ہوئی۔کھالوں کی مجموعی مالیت تقریباً 8 ارب 67 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو ملک کی چمڑے کی صنعت کے لیے ایک اہم معاشی شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔صنعتی ماہرین کے مطابق اگر کھالوں کی بہتر دیکھ بھال، بروقت نمک کاری اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنایا جائے تو چمڑے کی صنعت کو مزید ترقی دی جا سکتی ہے، جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشیوں کی بڑی تعداد اور کھالوں کی اربوں روپے مالیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مویشی پالنے اور چمڑے کی صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔