اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان میں اس سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔گزشتہ سال یہ تعداد 69 لاکھ 77 ہزار سے زائد تھی، جبکہ اس سال اضافہ مویشی منڈیوں کی سرگرمی اور قربانی کے رجحان میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس سال قربان کیے گئے جانوروں میں 27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیل، 42 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ شامل ہیں۔ بکرے سب سے زیادہ قربان کیے جانے والے جانور رہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھالوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا گیا۔ گائے اور بیل کی کھال کی اوسط قیمت تقریباً 2200 روپے رہی، جبکہ بکرے کی کھال 600 روپے، بھیڑ کی کھال 100 روپے اور اونٹ کی کھال تقریباً 2000 روپے میں فروخت ہوئی۔کھالوں کی مجموعی مالیت تقریباً 8 ارب 67 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو ملک کی چمڑے کی صنعت کے لیے ایک اہم معاشی شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔صنعتی ماہرین کے مطابق اگر کھالوں کی بہتر دیکھ بھال، بروقت نمک کاری اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنایا جائے تو چمڑے کی صنعت کو مزید ترقی دی جا سکتی ہے، جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشیوں کی بڑی تعداد اور کھالوں کی اربوں روپے مالیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مویشی پالنے اور چمڑے کی صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عیدالاضحیٰ پر 74 لاکھ سے زائد جانور قربان، کھالوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی
واپس خبروں پر
Category:
کامرس