تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر بجٹ اصلاحات کرے گی، وفد جلد پاکستان آئے گا

وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر بجٹ اصلاحات کرے گی، وفد جلد پاکستان آئے گا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجٹ سسٹم میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا وفد آئندہ مالی سال کے بجٹ کا جائزہ بھی لے گا۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تجاویز پر کام جاری ہے اور پارلیمانی منظوری کے بغیر اضافی گرانٹس کے اجرا پر پابندی عائد ہوگی۔ بجٹ میں بار بار تبدیلیوں کو روکنے کے لیے وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی آفس فعال کر دیا گیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومتی اخراجات اور بجٹ میں ہم آہنگی بہتر ہوگی اور بجٹ بنانے کا طریقہ مزید شفاف بنایا جائے گا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ہنگامی فنڈز رکھے جائیں گے، جبکہ رواں مالی سال اس مد میں 300 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔وزارت خزانہ کے متعلقہ دفاتر کو بجٹ اصلاحات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور بجٹ پر مکمل کنٹرول کے لیے نئے اصول متعارف کرائے جائیں گے۔ نئی حکمت عملی میں سرمایہ کاروں اور عالمی اداروں کا اعتماد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ترقیاتی بجٹ متاثر ہوا، تاہم آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں کو سال کے درمیان کٹوتیوں سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان آئے گا تاکہ بجٹ کی تیاریوں اور اصلاحات کا جائزہ لے اور حکومت نے مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور بجٹ فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔