تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

امریکا میں الیکٹرک ایئر ٹیکسی کا پہلا آزمائشی آپریشن کامیاب

امریکا میں الیکٹرک ایئر ٹیکسی کا پہلا آزمائشی آپریشن کامیاب

نیویارک( ویب ڈیسک) امریکا میں الیکٹرک ایئر ٹیکسی کے مستقبل کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلے آزمائشی آپریشن کا کامیاب آغاز کر دیا گیا، جس کے دوران مریضوں کے لیے عطیہ کیے گئے انسانی اعضا ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کیے گئے۔یہ آزمائشی پروازیں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے مشترکہ پائلٹ پروگرام کے تحت انجام دی گئیں، جس کا مقصد جدید فضائی نقل و حمل کے نظام کو عملی شکل دینا ہے۔رپورٹس کے مطابق الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (ای وی ٹول) طیاروں کے انٹیگریشن پائلٹ پروگرام کے تحت ہونے والی یہ پہلی عملی پروازیں کامیابی سے مکمل کی گئی ہیں۔یہ کثیر سالہ منصوبہ الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کی عملی کارکردگی، حفاظتی معیار اور آپریشنل صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں انہیں شہری فضائی ٹرانسپورٹ کے باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف ہنگامی طبی خدمات کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں شہری آمدورفت کے جدید، تیز رفتار اور ماحول دوست ذرائع کی راہ بھی ہموار ہوگی۔