تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

فلائی دبئی واقعہ، نیتن یاہو کیلئے انتخابی مہم میں نیا سکیورٹی بیانیہ

فلائی دبئی واقعہ، نیتن یاہو کیلئے انتخابی مہم میں نیا سکیورٹی بیانیہ

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں سکیورٹی کے مؤقف کے طور پر پیش کررہے ہیں، جس پر اپوزیشن کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔آئرش ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ مسافروں اور عملے کی مداخلت سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے ہیں اور واقعے کے بعد نیتن یاہو نے اسے سکیورٹی خطرات سے متعلق اپنے مؤقف سے جوڑا ہے۔ ان کے حامیوں نے بھی واقعے کو ان کی جانب سے پہلے دی گئی سکیورٹی وارننگ سے منسلک کیا۔دوسری جانب اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی سکیورٹی بریفنگ میں طیارے سے متعلق کسی ایسے خطرے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔رپورٹ میں نیتن یاہو کو درپیش سیاسی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ان کی حکومت کو اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور غزہ جنگ سے متعلق بھی شدید سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے۔واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں۔ اسرائیلی حکام نے معاون پائلٹ کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔آئرش ٹائمز کے مطابق طیارے کے واقعے نے اسرائیل میں غیر ملکی پائلٹس کی سکیورٹی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔