تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں سکیورٹی کے مؤقف کے طور پر پیش کررہے ہیں، جس پر اپوزیشن کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔آئرش ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ مسافروں اور عملے کی مداخلت سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے ہیں اور واقعے کے بعد نیتن یاہو نے اسے سکیورٹی خطرات سے متعلق اپنے مؤقف سے جوڑا ہے۔ ان کے حامیوں نے بھی واقعے کو ان کی جانب سے پہلے دی گئی سکیورٹی وارننگ سے منسلک کیا۔دوسری جانب اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی سکیورٹی بریفنگ میں طیارے سے متعلق کسی ایسے خطرے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔رپورٹ میں نیتن یاہو کو درپیش سیاسی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ان کی حکومت کو اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور غزہ جنگ سے متعلق بھی شدید سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے۔واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں۔ اسرائیلی حکام نے معاون پائلٹ کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔آئرش ٹائمز کے مطابق طیارے کے واقعے نے اسرائیل میں غیر ملکی پائلٹس کی سکیورٹی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔
فلائی دبئی واقعہ، نیتن یاہو کیلئے انتخابی مہم میں نیا سکیورٹی بیانیہ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں