تازہ ترین
اب خوشبوئیں بھی آن لائن شیئر ہوں گی، ڈیجیٹل مہک کی نئی ٹیکنالوجی تیار مصنوعی ذہانت پر بڑھتے انحصار کے باعث بارکلے بینک کا 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان وین گوو کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’دی اسٹاری نائٹ‘ سے متعلق سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز اوپن سورس کرنے کی منظوری مل گئی عرفی جاوید شہریار منور کی معترف، دبئی میں ملاقات کا احوال سنا دیا ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف منشیات کیس میں اہم پیشرفت ماورا حسین اور امیر گیلانی کے گھر بیٹے کی پیدائش دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد دیپیکا پاڈوکون کی شاہ رخ خان کے ساتھ فلمی دنیا میں واپسی فرانس میں حکومت مخالف احتجاج، پی ایس جی اور لیون کا فٹبال میچ ملتوی 23 سال بعد پاکستانی صدر کا جرمنی کا دورہ، آصف زرداری کو گارڈ آف آنر پیش پاکستان سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہے، دہشت گردی افغانستان سے آرہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد میں مین ہیٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت فورسز کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی: رانا ثنا اللہ ٹرمپ کا ایران پر جلد دوبارہ حملے کا اشارہ، مزید کارروائی کا امکان ظاہر کردیا ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر طنز، اسرائیل سے تعلقات کو ’طفیلی‘ قرار دے دیا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فضا میں تباہ کردیے گئے
پاکستان خبر

فلائی دبئی واقعہ، نیتن یاہو کیلئے انتخابی مہم میں نیا سکیورٹی بیانیہ

فلائی دبئی واقعہ، نیتن یاہو کیلئے انتخابی مہم میں نیا سکیورٹی بیانیہ

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں سکیورٹی کے مؤقف کے طور پر پیش کررہے ہیں، جس پر اپوزیشن کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔آئرش ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ مسافروں اور عملے کی مداخلت سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے ہیں اور واقعے کے بعد نیتن یاہو نے اسے سکیورٹی خطرات سے متعلق اپنے مؤقف سے جوڑا ہے۔ ان کے حامیوں نے بھی واقعے کو ان کی جانب سے پہلے دی گئی سکیورٹی وارننگ سے منسلک کیا۔دوسری جانب اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی سکیورٹی بریفنگ میں طیارے سے متعلق کسی ایسے خطرے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔رپورٹ میں نیتن یاہو کو درپیش سیاسی مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ان کی حکومت کو اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور غزہ جنگ سے متعلق بھی شدید سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے۔واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں۔ اسرائیلی حکام نے معاون پائلٹ کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔آئرش ٹائمز کے مطابق طیارے کے واقعے نے اسرائیل میں غیر ملکی پائلٹس کی سکیورٹی جانچ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔