تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان نے بتایا ہے کہ نیا کارگو مختلف بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچ رہا ہے، جس میں دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی توقع ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل میں 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے جائیں گے، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار 300 سے تجاوز کر جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں متبادل راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔میری ٹائم حکام کے مطابق خلیجی بحران کے اثرات کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر بندرگاہ پر بھی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تجارتی حجم 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ گوادر پورٹ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے مختلف فیسوں میں کمی کی گئی ہے، جس کے تحت برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی شامل ہے۔حکام کے مطابق سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری کے باعث گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک اہم لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ ملک کا جغرافیائی محل وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو علاقائی تجارت کے اہم مراکز میں تبدیل کر رہا ہے۔