تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان نے بتایا ہے کہ نیا کارگو مختلف بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچ رہا ہے، جس میں دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی توقع ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل میں 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے جائیں گے، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار 300 سے تجاوز کر جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں متبادل راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔میری ٹائم حکام کے مطابق خلیجی بحران کے اثرات کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر بندرگاہ پر بھی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تجارتی حجم 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ گوادر پورٹ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے مختلف فیسوں میں کمی کی گئی ہے، جس کے تحت برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی شامل ہے۔حکام کے مطابق سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری کے باعث گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک اہم لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ ملک کا جغرافیائی محل وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو علاقائی تجارت کے اہم مراکز میں تبدیل کر رہا ہے۔