تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

خلیجی بحران کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان نے بتایا ہے کہ نیا کارگو مختلف بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچ رہا ہے، جس میں دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی توقع ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل میں 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے جائیں گے، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار 300 سے تجاوز کر جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں متبادل راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔میری ٹائم حکام کے مطابق خلیجی بحران کے اثرات کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر بندرگاہ پر بھی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں تجارتی حجم 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ گوادر پورٹ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے مختلف فیسوں میں کمی کی گئی ہے، جس کے تحت برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی شامل ہے۔حکام کے مطابق سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری کے باعث گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک اہم لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ ملک کا جغرافیائی محل وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو علاقائی تجارت کے اہم مراکز میں تبدیل کر رہا ہے۔