تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ برقرار رکھنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد تک کر دیا جائے۔اس مجوزہ تبدیلی کے بعد ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 45 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ تعداد کم ہو کر 40 ہزار کے لگ بھگ رہنے کا تخمینہ ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں نہ صرف ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں بلکہ سولر پینلز پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں میں کمی کا مقصد مالیاتی خسارے پر قابو پانا ہے، تاہم اس سے متبادل توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو گاڑیوں اور توانائی کے شعبے میں قیمتوں اور طلب دونوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔