تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ برقرار رکھنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد تک کر دیا جائے۔اس مجوزہ تبدیلی کے بعد ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 45 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ تعداد کم ہو کر 40 ہزار کے لگ بھگ رہنے کا تخمینہ ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں نہ صرف ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں بلکہ سولر پینلز پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں میں کمی کا مقصد مالیاتی خسارے پر قابو پانا ہے، تاہم اس سے متبادل توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو گاڑیوں اور توانائی کے شعبے میں قیمتوں اور طلب دونوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔