تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ برقرار رکھنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد تک کر دیا جائے۔اس مجوزہ تبدیلی کے بعد ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 45 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ تعداد کم ہو کر 40 ہزار کے لگ بھگ رہنے کا تخمینہ ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں نہ صرف ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں بلکہ سولر پینلز پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں میں کمی کا مقصد مالیاتی خسارے پر قابو پانا ہے، تاہم اس سے متبادل توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو گاڑیوں اور توانائی کے شعبے میں قیمتوں اور طلب دونوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔