ممبئی( شو بز ڈیسک)معروف بھارتی گلوکار دلیر مہندی کی ایک تقریب میں سرِعام تضحیک کے معاملے پر فلم انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں کی تنظیم نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ریاست اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو خط لکھ دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق، تنظیم نے گلوکار کو دورانِ پرفارمنس اسٹیج پر روکنے اور ان کے گانے کے انداز پر سوالات اٹھانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فنکار برادری کے ساتھ عزت، احترام اور حساسیت سے پیش آیا جائے۔رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتراکھنڈ کے علاقے نیو ٹہری میں ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں ریاستی وزیر سبودھ اونیال نے دلیر مہندی کی پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر پہنچ کر انہیں روک دیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں وزیر کو گلوکار کی کیفیت اور گانے کے انداز پر سوال اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سبودھ اونیال نے دعویٰ کیا کہ دلیر مہندی نشے کی حالت میں تھے اور مناسب انداز میں پرفارم نہیں کر پا رہے تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ گلوکار براہِ راست گا رہے تھے یا ریکارڈ شدہ آواز پر لب ہلا رہے تھے۔فنکاروں کی تنظیم نے خط میں کیا کہا؟فلم انڈسٹری کے کارکنوں کی تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے اپنے خط میں کہا کہ اگر کسی فنکار کی صحت یا پرفارمنس کے حوالے سے تحفظات ہوں تو انہیں سرِعام ڈانٹنے کے بجائے احترام اور پیشہ ورانہ طریقے سے معاملہ حل کرنا چاہیے۔تنظیم نے خط میں یہ بھی نشاندہی کی کہ دلیر مہندی صحت کے مسائل سے گزر چکے ہیں اور سرجری کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں۔ خط میں ان پر شراب نوشی سے متعلق الزامات کے معاملے میں احتیاط برتنے اور مکمل حقائق سامنے آنے سے پہلے کوئی حتمی رائے قائم نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ایف ڈبلیو آئی سی ای کے مطابق، دلیر مہندی بھارتی موسیقی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔ریاستی وزیر کا مؤقفدوسری جانب ریاستی وزیر سبودھ اونیال نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گلوکار کو تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے معاوضہ دیا گیا تھا اور ان سے توقع تھی کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔وزیر نے دعویٰ کیا کہ دلیر مہندی کو اس تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے 35 لاکھ بھارتی روپے ادا کیے گئے تھے۔