تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

مئی 2026 میں مہنگائی 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

مئی 2026 میں مہنگائی 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو اپریل 2026 میں 10.9 فیصد جبکہ مئی 2025 میں صرف 3.5 فیصد تھی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نان فوڈ اور نان انرجی عمومی مہنگائی کی شرح 9.8 فیصد رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 37 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 17 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق خوراک کی اشیاء مجموعی طور پر 8 فیصد مہنگی ہوئیں۔ تعلیم کے اخراجات میں 8.37 فیصد اور صحت کی سہولیات میں 7.54 فیصد اضافہ ہوا۔ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے اخراجات میں بھی 5.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کپڑے اور جوتوں کی قیمتوں میں 8.77 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ آٹا 11.21 فیصد اور گندم کی قیمت 7.78 فیصد تک بڑھ گئی۔ آلو، بیکری مصنوعات، گوشت اور خشک دودھ بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔دودھ، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ جوتوں کی قیمتوں میں 29 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پوسٹل سروسز 9 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق موٹر فیول کی قیمت ایک ماہ میں 7.62 فیصد تک بڑھ گئی، جبکہ ٹرانسپورٹ سروسز 3.70 فیصد اور مزدور کی اجرت 3.64 فیصد تک بڑھی ہے۔