تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ

بیروت ( کامرس ڈیسک) جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر ایک بار پھر ڈرون حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں زیفتا کفروہ سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی حکام کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق اس وقت یہ واضح نہیں کہ حزب اللہ اسرائیلی مطالبے کے مطابق دریائے لیتانی کے جنوب سے اپنی فورسز کے انخلا پر آمادہ ہوگی یا نہیں۔دوسری جانب اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی اور غیر حقیقی منصوبہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ وزیر اعظم کو غلط فیصلوں کی طرف لے جا رہا ہے۔قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔بیان کے مطابق فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جنگ بندی اس شرط پر نافذ ہوگی کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے گی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجوؤں کا انخلا یقینی بنائے گی۔