تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ

بیروت ( کامرس ڈیسک) جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان پر ایک بار پھر ڈرون حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں زیفتا کفروہ سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی حکام کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق اس وقت یہ واضح نہیں کہ حزب اللہ اسرائیلی مطالبے کے مطابق دریائے لیتانی کے جنوب سے اپنی فورسز کے انخلا پر آمادہ ہوگی یا نہیں۔دوسری جانب اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی اور غیر حقیقی منصوبہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ وزیر اعظم کو غلط فیصلوں کی طرف لے جا رہا ہے۔قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔بیان کے مطابق فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جنگ بندی اس شرط پر نافذ ہوگی کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے گی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجوؤں کا انخلا یقینی بنائے گی۔