لاہور( سپورٹس ڈیسک)ایشین گیمز میں بھارتی ٹیم کے خلاف فائنل کے دوران مائیک ہیسن میدان سے باہر رہتے ہوئے بھی انتہائی متحرک دکھائی دیے اور پاکستانی ٹیم کے کئی اہم فیصلوں میں ان کی ہدایات پر عمل ہوتا رہا۔چند ماہ قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے سے پاکستان کے باہر ہونے کے بعد ایک رپورٹ میں مائیک ہیسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انہوں نے کوچ کی ذمہ داری سے بڑھ کر کپتان کے اختیارات بھی استعمال کیے۔ رپورٹ کے مطابق سلمان علی آغا بظاہر کپتان تھے، تاہم اہم فیصلوں میں ہیسن کا کردار نمایاں رہا۔ابتدائی اسکواڈ میں بابر اعظم کو شامل نہ کیے جانے کے باوجود ہیسن کے اصرار پر انہیں ٹیم میں جگہ دی گئی۔ میچز کے دوران کپتان کو پیغامات بھیجنے، فخر زمان کو ابتدائی مقابلوں میں باہر رکھنے اور عثمان طارق کو مختلف میچز میں وکٹ لینے کے باوجود ہٹانے جیسے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔اس صورتحال کے باوجود ہیسن نہ صرف اپنے عہدے پر برقرار رہے بلکہ انگلینڈ کے دورے کے دوران دیگر کوچز کی عدم موجودگی میں ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ایشین گیمز کے فائنل میں پاکستان کے پاس بھارت کے خلاف کامیابی کا اچھا موقع تھا، تاہم پلیئنگ الیون کے انتخاب اور بولنگ سے متعلق بعض فیصلوں نے میچ کا رخ بدل دیا۔ ہیسن میدان سے باہر مسلسل متحرک نظر آئے اور ان کی ہدایات پر عمل ہوتا رہا، جس کے باعث انہیں ’نان پلیئنگ کپتان‘ قرار دیا جا رہا ہے۔تحریر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ایسا بااختیار کپتان ضروری ہے جو اپنے فیصلے خود کرسکے۔ ماضی میں عمران خان، یونس خان اور سرفراز احمد جیسے کپتانوں کو ٹیم کے اندر فیصلوں کی آزادی حاصل تھی اور کوچ میدان کے باہر سے مسلسل ہدایات نہیں دیتا تھا۔مائیک ہیسن کے معاہدے میں ابتدائی اسکواڈ کی تشکیل اور پلیئنگ الیون کے انتخاب میں اختیارات شامل ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تحریر کے مطابق کوچ کو اپنی ذمہ داریوں کے دائرے تک محدود رہنا چاہیے جبکہ اسکواڈ کے انتخاب کے لیے ٹیم مینجمنٹ سے الگ سلیکشن کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔تحریر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ نئی سلیکشن کمیٹی میں مائیک ہیسن اور عاقب جاوید کو شامل نہ کیا جائے اور کوچ سے رائے لینے کے باوجود اسکواڈ اور ٹیم کے معاملات میں اختیارات واضح طور پر تقسیم کیے جائیں۔ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل نہ ہونے کے بعد اب پاکستان کرکٹ کے لیے واضح حکمت عملی اور ذمہ داریوں کی درست تقسیم کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔