تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اس وقت شدید معاشی دبا اور عوامی بے چینی کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران حکومتی سطح پر ملک گیر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش نافذ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عوامی مظاہروں کے پھیلا کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں شہریوں نے اہم شاہراہیں بلاک کر دیں اور معاشی بدحالی کے خلاف نعرے لگائے۔ مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شب دارالحکومت تہران کے متعدد محلوں میں شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ حالات کشیدہ رہے۔صورتحال کے پیش نظر حکام نے کئی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر معاشی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔