تازہ ترین
پاکستان کی سلامتی و ترقی مشترکہ ذمہ داری ہے، بلوچستان کا حصہ بڑھایا گیا: وزیراعظم شہباز شریف بلاول بھٹو کا کشمیر صورتحال پر اظہار تشویش، قومی سلامتی و سیاسی اتفاق رائے پر زور پنجاب میں گرد آلود ہواؤں اور بارش کا امکان، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز ضابطہ اخلاق میں بڑی ترامیم منظور کر لیں ٹرمپ ایرانی میڈیا پر برہم، ایران امریکا معاہدے کی لیک تفصیلات کو جعلی قرار دے دیا بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے مسلسل حادثات، جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ گئے وفاقی بجٹ میں اہم اداروں کے لیے اربوں روپے مختص، ایف بی آر اور پارلیمان کے اخراجات میں بڑا حصہ ورلڈ کپ 2026 سے قبل انگلینڈ ٹیم کو دھچکا، کنساس سٹی میں ٹریننگ سامان چوری بجٹ اقدامات پر کاروباری برادری کا ردعمل، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ فیفا ورلڈ کپ 2026: کینیڈا اور بوسنیا کا میچ 1-1 سے برابر، ٹورنٹو میں افتتاحی تقریب شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی برسی، سروں کے سلطان کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس مکمل عاصم اظہر کا نئے گانے اور سوشل میڈیا تنازع پر ردعمل، مداحوں کے تحفظات پر وضاحت جاری دنیا بھر میں میٹا سروسز متاثر، فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کو مشکلات کا سامنا وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ مسودہ منظور کر لیا گلگت بلتستان: پیپلز پارٹی پارلیمانی اجلاس، حکومت سازی پر مشاورت آزاد کشمیر: راولاکوٹ میں پرتشدد واقعات، سکیورٹی اہلکار زخمی
پاکستان خبر

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اس وقت شدید معاشی دبا اور عوامی بے چینی کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران حکومتی سطح پر ملک گیر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش نافذ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عوامی مظاہروں کے پھیلا کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں شہریوں نے اہم شاہراہیں بلاک کر دیں اور معاشی بدحالی کے خلاف نعرے لگائے۔ مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شب دارالحکومت تہران کے متعدد محلوں میں شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ حالات کشیدہ رہے۔صورتحال کے پیش نظر حکام نے کئی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر معاشی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔