تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج، انٹرنیٹ مکمل طور پر بند

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اس وقت شدید معاشی دبا اور عوامی بے چینی کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران حکومتی سطح پر ملک گیر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش نافذ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عوامی مظاہروں کے پھیلا کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں شہریوں نے اہم شاہراہیں بلاک کر دیں اور معاشی بدحالی کے خلاف نعرے لگائے۔ مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شب دارالحکومت تہران کے متعدد محلوں میں شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ حالات کشیدہ رہے۔صورتحال کے پیش نظر حکام نے کئی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر معاشی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔