تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے قریبی اور برادرانہ تعلقات بھارت کے لیے کسی بھی طرح مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں۔بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کے مطابق سنگاپور میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ بھارت کو ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کو اپنے خلاف کسی اقدام یا دشمنی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھتے ہیں۔ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد پر بھارت ناراضی کا اظہار کرتا ہے تو اس رویے پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ ترکیہ مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق حاقان فیدان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا کے ممالک اپنی قومی ترجیحات کے تحت آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہیں اور ان کے باہمی تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مؤثر خارجہ پالیسی کے لیے دیگر ممالک کے خودمختار سفارتی فیصلوں کا احترام ناگزیر ہے۔