تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے قریبی اور برادرانہ تعلقات بھارت کے لیے کسی بھی طرح مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں۔بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کے مطابق سنگاپور میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ بھارت کو ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کو اپنے خلاف کسی اقدام یا دشمنی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھتے ہیں۔ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد پر بھارت ناراضی کا اظہار کرتا ہے تو اس رویے پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ ترکیہ مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق حاقان فیدان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا کے ممالک اپنی قومی ترجیحات کے تحت آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہیں اور ان کے باہمی تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مؤثر خارجہ پالیسی کے لیے دیگر ممالک کے خودمختار سفارتی فیصلوں کا احترام ناگزیر ہے۔