تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے قریبی اور برادرانہ تعلقات بھارت کے لیے کسی بھی طرح مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں۔بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کے مطابق سنگاپور میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ بھارت کو ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کو اپنے خلاف کسی اقدام یا دشمنی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھتے ہیں۔ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد پر بھارت ناراضی کا اظہار کرتا ہے تو اس رویے پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ ترکیہ مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق حاقان فیدان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا کے ممالک اپنی قومی ترجیحات کے تحت آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہیں اور ان کے باہمی تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مؤثر خارجہ پالیسی کے لیے دیگر ممالک کے خودمختار سفارتی فیصلوں کا احترام ناگزیر ہے۔