تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ

امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے چین پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اسے باضابطہ وارننگ جاری کی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مشترکہ طور پر چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملازمت کے پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے مطابق چین جعلی پروفائلز اور نوکریوں کی پیشکش کے ذریعے افراد کو نشانہ بنا کر ان سے اہم اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لندن میں چینی سفارتخانے نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پر جاسوسی کے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف جاسوسی کے الزامات تک محدود نہیں بلکہ امریکا اور چین کے درمیان جاری وسیع تر اسٹریٹجک مقابلے کا حصہ ہے، جس میں سائبر سکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور علاقائی سلامتی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ چین منظم انداز میں سائبر اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ چین ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈا قرار دیتا ہے۔