تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ

امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے چین پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اسے باضابطہ وارننگ جاری کی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مشترکہ طور پر چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملازمت کے پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے مطابق چین جعلی پروفائلز اور نوکریوں کی پیشکش کے ذریعے افراد کو نشانہ بنا کر ان سے اہم اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لندن میں چینی سفارتخانے نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پر جاسوسی کے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف جاسوسی کے الزامات تک محدود نہیں بلکہ امریکا اور چین کے درمیان جاری وسیع تر اسٹریٹجک مقابلے کا حصہ ہے، جس میں سائبر سکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور علاقائی سلامتی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ چین منظم انداز میں سائبر اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ چین ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈا قرار دیتا ہے۔