تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے معاملے میں صدر کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق حزبِ اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اقدام کو اس وقت تک آگے نہ بڑھایا جائے جب تک کانگریس کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ ہو۔رائے شماری کے دوران قرارداد کے حق میں 215 ووٹ جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ ڈالے گئے۔ اس موقع پر حکمران جماعت کے چار ارکان نے اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر قرارداد کی حمایت کی اور حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے امریکی کانگریس میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ خدشات صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمران جماعت کے بعض ارکان بھی اس معاملے پر تحفظات رکھتے ہیں۔قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ جنگ یا کسی بھی بڑے فوجی اقدام کا فیصلہ آئینی طور پر کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہیے، کیونکہ ایسے فیصلوں میں عوامی نمائندوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔