تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے معاملے میں صدر کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق حزبِ اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اقدام کو اس وقت تک آگے نہ بڑھایا جائے جب تک کانگریس کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ ہو۔رائے شماری کے دوران قرارداد کے حق میں 215 ووٹ جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ ڈالے گئے۔ اس موقع پر حکمران جماعت کے چار ارکان نے اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر قرارداد کی حمایت کی اور حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے امریکی کانگریس میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ خدشات صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمران جماعت کے بعض ارکان بھی اس معاملے پر تحفظات رکھتے ہیں۔قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ جنگ یا کسی بھی بڑے فوجی اقدام کا فیصلہ آئینی طور پر کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہیے، کیونکہ ایسے فیصلوں میں عوامی نمائندوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔