تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے معاملے میں صدر کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق حزبِ اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اقدام کو اس وقت تک آگے نہ بڑھایا جائے جب تک کانگریس کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ ہو۔رائے شماری کے دوران قرارداد کے حق میں 215 ووٹ جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ ڈالے گئے۔ اس موقع پر حکمران جماعت کے چار ارکان نے اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر قرارداد کی حمایت کی اور حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے امریکی کانگریس میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ خدشات صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمران جماعت کے بعض ارکان بھی اس معاملے پر تحفظات رکھتے ہیں۔قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ جنگ یا کسی بھی بڑے فوجی اقدام کا فیصلہ آئینی طور پر کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہیے، کیونکہ ایسے فیصلوں میں عوامی نمائندوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔