تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول

پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول

لاہور ( سپورٹس ڈیسک) پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیمیں رواں ماہ لندن میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق دونوں روایتی حریفوں کے درمیان میچز 23 اور 26 جون کو کھیلے جائیں گے، جن کے لیے ٹکٹوں کی فروخت بھی جاری ہے۔پاکستانی ہاکی ٹیم اس وقت لاہور میں کیمپ میں مصروف ہے اور آئندہ میچز کی تیاری کر رہی ہے۔ پرو ہاکی لیگ کے شیڈول کے مطابق قومی ٹیم 9 جون کو بیلجیم روانہ ہوگی۔اس دورے کے دوران پاکستان 13 جون کو بیلجیم اور 14 جون کو اسپین کے خلاف میدان میں اترے گا، جبکہ 19 اور 20 جون کو انہی ٹیموں کے خلاف مزید میچز شیڈول ہیں۔بعد ازاں قومی ٹیم 21 جون کو بیلجیم سے لندن پہنچے گی جہاں اگلے مرحلے کے میچز کھیلے جائیں گے۔ پاکستان 23 جون کو بھارت کے خلاف جبکہ 24 جون کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا۔ 26 جون کو پاکستان اور بھارت دوبارہ آمنے سامنے ہوں گے، جبکہ 27 جون کو پاکستان کا آخری میچ انگلینڈ کے خلاف ہوگا۔اب تک لیگ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور ٹیم اپنے تمام میچز میں شکست سے دوچار رہی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی ٹیم سب سے نیچے موجود ہے۔پرو ہاکی لیگ میں ٹیم کی پوزیشن برقرار رکھنا پاکستان کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ہر سیزن کے آخر میں سب سے نچلی ٹیم کو لیگ سے خارج کر دیا جاتا ہے۔