تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر

گلگت(پاکستان خبر) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی کو انتخابی مہم چلانے سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی کے مترادف ہے اور ایسے اقدامات جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں۔گلگت بلتستان میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو سیاسی رہنما اپنے حلقوں میں عوامی حمایت حاصل نہ کر سکے، وہ اب گلگت بلتستان کے عوام سے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے باشعور اور خوددار عوام ایسے عناصر اور ان کی سیاست کو مسترد کر دیں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور اراکینِ قومی اسمبلی کو جلسوں اور عوامی رابطہ مہم سے روکنا اور بعض افراد کو صوبے سے باہر بھیجنا آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف اقدام ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مخالف سیاسی قوتوں کی گزشتہ چند برسوں کی حکمت عملی کا محور صرف پاکستان تحریک انصاف کو محدود کرنا رہا ہے تاکہ انتخابی میدان میں انہیں فائدہ حاصل ہو سکے، تاہم عوام ایسے ہتھکنڈوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی کو درپیش مبینہ سیاسی تنہائی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو قیادت اسمبلیوں کے بائیکاٹ سمیت مختلف آپشنز پر غور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری نہ آنے کی صورت میں نظام سے الگ ہونے کا معاملہ بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔