اسلام آباد(پاکستان خبر) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ابراہیمی معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے اور جب تک فلسطینی ریاست کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر تسلیم نہیں کیا جاتا، کسی بھی معاہدے پر لچک کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا حامی ہے اور عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جس سے سفارتی روابط بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قیادت کی پالیسیوں کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔وزیر خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں مختلف باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیان میں مسلم ممالک سمیت بعض ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔
ابراہیمی معاہدے پر کو ئی لچک نہیں،پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے :اسحاق ڈار
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان