تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ

میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ

میانمار( مانیٹرنگ ڈیسک)میانمار کے ساحل کے قریب 500 سے زائد افراد کو لے جانے والی دو کشتیاں الٹ جانے کے بعد بڑے انسانی سانحے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ سوار تمام افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق جنگ اور عدم تحفظ سے متاثرہ روہنگیا پناہ گزین محفوظ مستقبل اور بہتر مواقع کی تلاش میں خطرناک سمندری راستوں کا رخ کر رہے تھے۔بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے مشترکہ بیان میں بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی ریاست راکھین سے روانہ ہوئی تھیں، جن میں زیادہ تر روہنگیا پناہ گزین سوار تھے۔بیان کے مطابق بعض مسافر بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپوں سے بھی اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔اقوام متحدہ کے دونوں اداروں نے کہا ہے کہ اگرچہ حادثات اور جانی نقصان کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔