تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آئندہ بجٹ: ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز

آئندہ بجٹ: ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) آئندہ وفاقی بجٹ کے تحت ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ کیبنٹ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 72 ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن کے منصوبوں پر تقریباً 2 ارب روپے خرچ کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ نیشنل آرکائیوز پاکستان کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبے پر ساڑھے 5 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے۔توانائی کے شعبے میں شمسی توانائی نظام کی اپ گریڈیشن اور توانائی بچت کے منصوبوں کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے کے لیے 1 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز شامل ہے۔فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا مقصد امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بھی متعدد منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن کا فروغ، توانائی کی بچت اور خواتین کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔