تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

وزیراعظم شہباز شریف کی بیجنگ آمد: پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ اور 1.22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر زور

وزیراعظم شہباز شریف کی بیجنگ آمد: پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کے فروغ اور 1.22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر زور

بیجنگ: وزیراعظم شہباز شریف اپنے چار روزہ سرکاری دورہ چین کے سلسلے میں اتوار کو بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔

چینی دارالحکومت پہنچنے پر چین کے ماحولیات اور ایکولوجی کے وزیر ہوانگ رنچیو نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے ایک بیان کے مطابق، بیجنگ میں قیام کے دوران وزیراعظم کی مصروفیات کا مرکز پاک چین 'آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ' کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ان ملاقاتوں میں سی پیک (CPEC) فیز ٹو کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی رابطوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

یہ اہم دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

ہانگژو کا دورہ اور 1.22 ارب ڈالر کے معاہدے بیجنگ روانگی سے قبل، وزیراعظم ہفتے کو ہانگژو پہنچے جہاں انہوں نے تیسری پاک چین بزنس ٹو بزنس (B2B) انویسٹمنٹ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم کی موجودگی میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 1.22 ارب ڈالر مالیت کی مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

ہانگژو میں انہوں نے صوبائی قیادت اور صف اول کی چینی کمپنیوں بشمول StarCharge، CATL اور Xiuzheng Pharmaceutical کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ CATL کے ساتھ بات چیت میں جدید بیٹریوں، انرجی اسٹوریج اور شمسی توانائی کے حل پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ پاکستان میں کلین انرجی کی منتقلی میں مدد مل سکے۔ وزیراعظم نے علی بابا کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا، جہاں ایگزیکٹو چیئرمین جو تسائی نے ان کا استقبال کیا۔

صنعتی منتقلی اور زرعی ترقی پر زور B2B انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین میں اب لیبر کافی مہنگی ہو چکی ہے اور چین تیزی سے اعلیٰ درجے کی صنعت کاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وہ چینی صنعتیں جو مہنگی لیبر کی وجہ سے مسابقتی نہیں رہیں، وہ پاکستان منتقل ہو سکتی ہیں۔ وہاں وہ پاکستانی تاجروں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز کر کے مصنوعات تیار کر سکتی ہیں اور تیسرے ممالک کو برآمد کر سکتی ہیں۔

وزیراعظم نے اس ماڈل کو چینی اور پاکستانی تاجروں دونوں کے لیے ایک "ون ون" (win-win) ماڈل قرار دیا اور چینی سرمایہ کاروں کو کراچی کے ایکسپورٹ زون کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

انہوں نے پاکستان کی کان کنی، معدنیات اور زراعت کے شعبوں میں موجود وسیع مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سالانہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، جس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے اگلے پانچ سے سات سالوں میں چین کو پاکستان کی زرعی برآمدات میں 10 ارب ڈالر کے اضافے کا ہدف مقرر کیا۔

چینی سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ خصوصی اقتصادی زونز (Special Economic Zones) میں جدید انفراسٹرکچر، ہموار کاروباری ماحول، ون ونڈو آپریشن اور طویل المدتی لیز پر اراضی فراہم کی جائے گی اور چینی سرمایہ کاروں کو 'ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ' دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ حال ہی میں طے پانے والے MoUs میں سے 30 فیصد پہلے ہی باقاعدہ معاہدوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں