اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کی گئی۔وفد میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی سمیت متعدد معروف کاروباری شخصیات شامل تھیں۔وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری شخصیات پاکستان کی معیشت کے سفیر ہیں اور دنیا میں ملک کی پہچان کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں کاروباری برادری کا تعاون قابلِ تحسین ہے اور حکومت و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ معاشی پالیسی سازی میں کاروباری طبقے سے مشاورت انتہائی اہم ہے۔ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم کے مطابق حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے جن سے ملکی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کے لیے تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں وفد کو حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس تنازعات کے فوری حل کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور شفاف بھرتیوں کا عمل اپنایا گیا ہے۔ اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کراچی بندرگاہ سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹر وے ایم-10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے، جبکہ ایم-13 کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہوگا۔ ریلوے کے ایم ایل-ون اور ایم ایل-ٹو منصوبوں کی اپ گریڈیشن سے تجارتی ترسیل میں بہتری آئے گی۔حکام کے مطابق نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے جبکہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال سے ریونیو میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔وفد نے پاکستان کی معاشی بحالی، سفارتی کوششوں اور کاروبار دوست پالیسیوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔کاروباری رہنماؤں نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں مشاورت کے عمل کو سراہتے ہوئے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر بھی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔اجلاس میں متعدد وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صنعتکاروں سے ملاقات، بجٹ 2026-27 اور معاشی اصلاحات پر مشاورت
واپس خبروں پر
Category:
کامرس