تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)گلوبل انرجی مانیٹر کی سالانہ رپورٹ Boom and Bust 2026 کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے ملک کے توانائی نظام اور قومی گرڈ کی مالی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں غیر مرکزی (decentralized) شمسی توانائی تنصیبات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور اندازاً ملک کی مجموعی بجلی کھپت کا تقریباً 25 فیصد حصہ اب شمسی ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے، جس میں زیادہ تر نظام آف گرڈ ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمسی توانائی کے پھیلاؤ کے باوجود ملک میں کوئلہ توانائی کے منصوبے بدستور فعال ہیں، اور کسی بھی کوئلہ بجلی گھر کی ریٹائرمنٹ کے لیے واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق کوئلے پر انحصار کرنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے طویل المدتی معاہدوں کی توسیع چاہتے ہیں، جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبے میں مہنگے اور غیر لچکدار نظام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم توانائی پالیسی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ایک طرف سستی قابلِ تجدید توانائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف روایتی ایندھن پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کے دباؤ بھی موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق آئندہ سالوں میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ وہ توانائی کی طلب، لاگت اور ماحولیاتی اثرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔