تازہ ترین
وزیراعظم شہباز شریف کا چین کے امن ایجنڈے کی حمایت کا اعلان، بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پشاور سے کراچی نئی عوام ایکسپریس ٹرین کا افتتاح، جدید سہولیات سے آراستہ سروس شروع وزیراعلیٰ بلوچستان کی زخمیوں کی عیادت، بہترین علاج کی ہدایت معصوم بلوچ عوام فتنۃ الہندوستان کی بربریت کا ایک بار پھر شکار یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا ایران اور امریکا مذاکرات: معاہدے میں پیش رفت، حتمی منظوری میں تاخیر کا امکان غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح عبور کر گیا بنگلادیش کا پاسپورٹ پالیسی میں نیا فیصلہ، ’سوائے اسرائیل‘ کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا اعلان 5.8 ارب روپے کا آئی پی او چند سیکنڈز میں سبسکرائب، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی لسٹنگز پر زور پاکستان اور چین کے درمیان راک سالٹ شعبے میں طویل المدتی تعاون کا معاہدہ پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات آئی پی ایل میچ میں ناخوشگوار واقعہ، چیئر لیڈرز سے نامناسب رویے پر سیکیورٹی متحرک حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے، ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2026: پاکستان کے نعمان علی خان نے ٹائٹل اپنے نام کر لیا پاکستان ویمن ٹیم آئرلینڈ روانہ، ورلڈ کپ سے قبل سہ ملکی سیریز میں شرکت
پاکستان خبر

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)گلوبل انرجی مانیٹر کی سالانہ رپورٹ Boom and Bust 2026 کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے ملک کے توانائی نظام اور قومی گرڈ کی مالی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں غیر مرکزی (decentralized) شمسی توانائی تنصیبات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور اندازاً ملک کی مجموعی بجلی کھپت کا تقریباً 25 فیصد حصہ اب شمسی ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے، جس میں زیادہ تر نظام آف گرڈ ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمسی توانائی کے پھیلاؤ کے باوجود ملک میں کوئلہ توانائی کے منصوبے بدستور فعال ہیں، اور کسی بھی کوئلہ بجلی گھر کی ریٹائرمنٹ کے لیے واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق کوئلے پر انحصار کرنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے طویل المدتی معاہدوں کی توسیع چاہتے ہیں، جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبے میں مہنگے اور غیر لچکدار نظام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم توانائی پالیسی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ایک طرف سستی قابلِ تجدید توانائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف روایتی ایندھن پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کے دباؤ بھی موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق آئندہ سالوں میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ وہ توانائی کی طلب، لاگت اور ماحولیاتی اثرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔