تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)گلوبل انرجی مانیٹر کی سالانہ رپورٹ Boom and Bust 2026 کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے ملک کے توانائی نظام اور قومی گرڈ کی مالی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں غیر مرکزی (decentralized) شمسی توانائی تنصیبات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور اندازاً ملک کی مجموعی بجلی کھپت کا تقریباً 25 فیصد حصہ اب شمسی ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے، جس میں زیادہ تر نظام آف گرڈ ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمسی توانائی کے پھیلاؤ کے باوجود ملک میں کوئلہ توانائی کے منصوبے بدستور فعال ہیں، اور کسی بھی کوئلہ بجلی گھر کی ریٹائرمنٹ کے لیے واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق کوئلے پر انحصار کرنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے طویل المدتی معاہدوں کی توسیع چاہتے ہیں، جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبے میں مہنگے اور غیر لچکدار نظام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم توانائی پالیسی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ایک طرف سستی قابلِ تجدید توانائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف روایتی ایندھن پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کے دباؤ بھی موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق آئندہ سالوں میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ وہ توانائی کی طلب، لاگت اور ماحولیاتی اثرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔