تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ اس سال یوم عرفہ کے موقع پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج براہِ راست خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آئے گا، جو کہ 9 ذوالحجہ 1447 ہجری (یوم عرفہ) کے دن کے مطابق ہوگا۔ اس وقت سورج بالکل خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، جس کے باعث مکہ مکرمہ میں سایہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا یہ زاویہ سال میں عام طور پر دو مرتبہ بنتا ہے، جس کی وجہ اس شہر کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے جو تقریباً 21.4 درجۂ شمالی عرض بلد پر واقع ہے۔ اس دوران سورج خطِ استوا اور مدارِ سرطان کے درمیان حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سال یہ خاص بات ہے کہ یہ مظہر یوم عرفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو ایک نایاب اتفاق ہے۔ اس سے قبل ایسا واقعہ 1993 میں پیش آیا تھا۔ یہ ہم آہنگی قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے تقریباً ہر 33 سال بعد بنتی ہے۔سعودی عرب کا قومی مرکز برائے موسمیات نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے اور اس کا درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ادارے کے ترجمان نے کہا کہ موسم کی شدت مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ شامل ہیں، نہ کہ صرف سورج کی پوزیشن۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مظہر کی نگرانی ہر سال معمول کے مطابق کی جاتی ہے اور عوام کو چاہیے کہ موسم سے متعلق درست معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔