تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ اس سال یوم عرفہ کے موقع پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج براہِ راست خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آئے گا، جو کہ 9 ذوالحجہ 1447 ہجری (یوم عرفہ) کے دن کے مطابق ہوگا۔ اس وقت سورج بالکل خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، جس کے باعث مکہ مکرمہ میں سایہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا یہ زاویہ سال میں عام طور پر دو مرتبہ بنتا ہے، جس کی وجہ اس شہر کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے جو تقریباً 21.4 درجۂ شمالی عرض بلد پر واقع ہے۔ اس دوران سورج خطِ استوا اور مدارِ سرطان کے درمیان حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سال یہ خاص بات ہے کہ یہ مظہر یوم عرفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو ایک نایاب اتفاق ہے۔ اس سے قبل ایسا واقعہ 1993 میں پیش آیا تھا۔ یہ ہم آہنگی قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے تقریباً ہر 33 سال بعد بنتی ہے۔سعودی عرب کا قومی مرکز برائے موسمیات نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے اور اس کا درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ادارے کے ترجمان نے کہا کہ موسم کی شدت مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ شامل ہیں، نہ کہ صرف سورج کی پوزیشن۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مظہر کی نگرانی ہر سال معمول کے مطابق کی جاتی ہے اور عوام کو چاہیے کہ موسم سے متعلق درست معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔