تازہ ترین
وزیراعظم شہباز شریف کا چین کے امن ایجنڈے کی حمایت کا اعلان، بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پشاور سے کراچی نئی عوام ایکسپریس ٹرین کا افتتاح، جدید سہولیات سے آراستہ سروس شروع وزیراعلیٰ بلوچستان کی زخمیوں کی عیادت، بہترین علاج کی ہدایت معصوم بلوچ عوام فتنۃ الہندوستان کی بربریت کا ایک بار پھر شکار یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا ایران اور امریکا مذاکرات: معاہدے میں پیش رفت، حتمی منظوری میں تاخیر کا امکان غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح عبور کر گیا بنگلادیش کا پاسپورٹ پالیسی میں نیا فیصلہ، ’سوائے اسرائیل‘ کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا اعلان 5.8 ارب روپے کا آئی پی او چند سیکنڈز میں سبسکرائب، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی لسٹنگز پر زور پاکستان اور چین کے درمیان راک سالٹ شعبے میں طویل المدتی تعاون کا معاہدہ پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات آئی پی ایل میچ میں ناخوشگوار واقعہ، چیئر لیڈرز سے نامناسب رویے پر سیکیورٹی متحرک حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے، ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2026: پاکستان کے نعمان علی خان نے ٹائٹل اپنے نام کر لیا پاکستان ویمن ٹیم آئرلینڈ روانہ، ورلڈ کپ سے قبل سہ ملکی سیریز میں شرکت
پاکستان خبر

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ اس سال یوم عرفہ کے موقع پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج براہِ راست خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آئے گا، جو کہ 9 ذوالحجہ 1447 ہجری (یوم عرفہ) کے دن کے مطابق ہوگا۔ اس وقت سورج بالکل خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، جس کے باعث مکہ مکرمہ میں سایہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا یہ زاویہ سال میں عام طور پر دو مرتبہ بنتا ہے، جس کی وجہ اس شہر کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے جو تقریباً 21.4 درجۂ شمالی عرض بلد پر واقع ہے۔ اس دوران سورج خطِ استوا اور مدارِ سرطان کے درمیان حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سال یہ خاص بات ہے کہ یہ مظہر یوم عرفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو ایک نایاب اتفاق ہے۔ اس سے قبل ایسا واقعہ 1993 میں پیش آیا تھا۔ یہ ہم آہنگی قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے تقریباً ہر 33 سال بعد بنتی ہے۔سعودی عرب کا قومی مرکز برائے موسمیات نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے اور اس کا درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ادارے کے ترجمان نے کہا کہ موسم کی شدت مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ شامل ہیں، نہ کہ صرف سورج کی پوزیشن۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مظہر کی نگرانی ہر سال معمول کے مطابق کی جاتی ہے اور عوام کو چاہیے کہ موسم سے متعلق درست معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔