تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا

دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ اس سال یوم عرفہ کے موقع پر ایک نایاب فلکیاتی مظہر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج براہِ راست خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آئے گا، جو کہ 9 ذوالحجہ 1447 ہجری (یوم عرفہ) کے دن کے مطابق ہوگا۔ اس وقت سورج بالکل خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، جس کے باعث مکہ مکرمہ میں سایہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا یہ زاویہ سال میں عام طور پر دو مرتبہ بنتا ہے، جس کی وجہ اس شہر کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے جو تقریباً 21.4 درجۂ شمالی عرض بلد پر واقع ہے۔ اس دوران سورج خطِ استوا اور مدارِ سرطان کے درمیان حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس سال یہ خاص بات ہے کہ یہ مظہر یوم عرفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو ایک نایاب اتفاق ہے۔ اس سے قبل ایسا واقعہ 1993 میں پیش آیا تھا۔ یہ ہم آہنگی قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے تقریباً ہر 33 سال بعد بنتی ہے۔سعودی عرب کا قومی مرکز برائے موسمیات نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے اور اس کا درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ادارے کے ترجمان نے کہا کہ موسم کی شدت مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جن میں نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ شامل ہیں، نہ کہ صرف سورج کی پوزیشن۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مظہر کی نگرانی ہر سال معمول کے مطابق کی جاتی ہے اور عوام کو چاہیے کہ موسم سے متعلق درست معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔