اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے تحت موجودہ 40 ہزار روپے کی کم از کم اجرت میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ سفارش قومی سطح پر ملازمین کے معاشی حالات بہتر بنانے اور اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔ادارے نے مزید کہا ہے کہ تنخواہوں میں یہ اضافہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔