تازہ ترین
ہائی کورٹس آزاد آئینی ادارے ہیں، ماتحت عدالتیں نہیں: وفاقی آئینی عدالت پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی ہے: بیرسٹر گوہر بلوچستان کے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر ختم کرنے کا فیصلہ وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ امریکا اور اتحادیوں کی چین پر جاسوسی سے متعلق وارننگ ترکیہ پاکستان تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں: ترک وزیر خارجہ ایران کے خلاف ٹر مپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا بلوچستان میں کاروباری اوقاتِ کار کے نئے قواعد نافذ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈسکوز کی نجکاری: غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی فیفا: ورلڈ کپ میں پانی کی بوتلوں پر پابندی فلسطینی فٹبالرز کی گرفتاری، حراست میں توسیع فرنچ اوپن: سبالینکا کوارٹر فائنل میں باہر پاکستان اور بھارت ہاکی ٹاکرا لندن میں شیڈول
پاکستان خبر

آئندہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 754 ارب روپے، مختلف وزارتوں کیلئے فنڈز کی تفصیل سامنے آگئی

آئندہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 754 ارب روپے، مختلف وزارتوں کیلئے فنڈز کی تفصیل سامنے آگئی

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاور ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 355 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے، جن میں این ایچ اے کے لیے 264 ارب روپے اور پاور ڈویژن کے لیے 91 ارب روپے شامل ہیں۔آبی وسائل ڈویژن کے لیے 179 ارب روپے مختص کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبوں اور خصوصی علاقوں کے لیے مجموعی طور پر 251 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے، جن میں صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے لیے 99 ارب روپے، انضمام شدہ اضلاع کے لیے 66 ارب روپے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 86 ارب روپے شامل ہیں۔دیگر شعبوں میں دفاعی ڈویژن کے لیے 11 ارب روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب روپے، ریلوے ڈویژن کے لیے 28 ارب روپے، اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے۔وزارت داخلہ کو 16 ارب روپے جبکہ وزارت اطلاعات کو 4 ارب روپے سے زائد فنڈز ملنے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف وفاقی ترقیاتی پروگرام میں مزید 200 ارب روپے اضافے کے خواہش مند ہیں، تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اضافی ریونیو جمع کرنے سے انکار کیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی ترقیاتی بجٹ میں اضافے کے لیے ریونیو ہدف بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے باعث بجٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر وزارت خزانہ میں غور جاری ہے۔