تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

نیویارک( کامرس ڈیسک)بین الاقوامی سطح کے اہم مالی و توانائی اداروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک گروپ اور عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہان نے ایک مشترکہ اجلاس میں خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر بحال نہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔بیان کے مطابق شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران تیل کی طلب بڑھنے سے پہلے ہی عالمی ذخائر میں کمی کا رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ کی صورت میں ایندھن کی فراہمی، عالمی منڈیوں کے استحکام اور وسیع تر معاشی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے پر غور جاری ہے تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔