نیویارک( کامرس ڈیسک)بین الاقوامی سطح کے اہم مالی و توانائی اداروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک گروپ اور عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہان نے ایک مشترکہ اجلاس میں خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر بحال نہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔بیان کے مطابق شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران تیل کی طلب بڑھنے سے پہلے ہی عالمی ذخائر میں کمی کا رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ کی صورت میں ایندھن کی فراہمی، عالمی منڈیوں کے استحکام اور وسیع تر معاشی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے پر غور جاری ہے تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں