تازہ ترین
ابراہیمی معاہدے پر کو ئی لچک نہیں،پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے :اسحاق ڈار عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی کردار مضبوط، بھارت کی تنہائی کی پالیسی ناکام قرار ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 71 لاکھ سے تجاوز کر گئی حج سے واپسی کا مرحلہ شروع، پہلے روز ہزاروں حاجیوں کی وطن واپسی غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی تیاریاں، نیا کسوہ یکم محرم کو نصب کیا جائے گا ایران پر پابندیاں مرحلہ وار ختم ہوں گی، امریکی وزیر خزانہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ اسرائیل کا حماس کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، غزہ میں کشیدگی برقرار آئی ایم ایف کا انکار، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کا امکان پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مجموعی ذخائر 22 ارب 64 کروڑ ڈالر سے زائد ہو گئی عیدالاضحیٰ پر 74 لاکھ سے زائد جانور قربان، کھالوں کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ گئی انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان کی شاندار فتح، چین کو 0-3 سے شکست ویمن ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز: پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 25 رنز سے شکست مالدیپ میں چار ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان پاکستان اور آسٹریلیا ایک روزہ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا مقابلہ کل ہو گا
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

نیویارک( کامرس ڈیسک)بین الاقوامی سطح کے اہم مالی و توانائی اداروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک گروپ اور عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہان نے ایک مشترکہ اجلاس میں خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر بحال نہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔بیان کے مطابق شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران تیل کی طلب بڑھنے سے پہلے ہی عالمی ذخائر میں کمی کا رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ کی صورت میں ایندھن کی فراہمی، عالمی منڈیوں کے استحکام اور وسیع تر معاشی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے پر غور جاری ہے تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔