تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران کا خدشہ، بڑی مالی و تجارتی تنظیموں کا انتباہ

نیویارک( کامرس ڈیسک)بین الاقوامی سطح کے اہم مالی و توانائی اداروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک گروپ اور عالمی تجارتی تنظیم کے سربراہان نے ایک مشترکہ اجلاس میں خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر بحال نہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔بیان کے مطابق شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران تیل کی طلب بڑھنے سے پہلے ہی عالمی ذخائر میں کمی کا رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ کی صورت میں ایندھن کی فراہمی، عالمی منڈیوں کے استحکام اور وسیع تر معاشی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے پر غور جاری ہے تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔