تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

یوٹیوب کا نیا قدم، اے آئی سے تیار مواد پر واضح لیبل لازمی

یوٹیوب کا نیا قدم، اے آئی سے تیار مواد پر واضح لیبل لازمی

 نیویارک( ویب ڈیسک)یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا تبدیل کیے گئے مواد کی شناخت کے لیے مزید شفافیت اور سخت نگرانی کا نظام نافذ کر رہا ہے۔نئی پالیسی کے تحت اب یوٹیوب پر اپ لوڈ ہونے والی ہر وہ ویڈیو جس میں نمایاں طور پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہو، اس پر واضح طور پر “اے آئی سے تیار کردہ مواد” کا لیبل ظاہر کیا جائے گا۔طویل ویڈیوز میں یہ لیبل ویڈیو پلیئر کے نیچے اور تفصیل کے حصے کے اوپر دکھایا جائے گا، جبکہ مختصر ویڈیوز (شارٹس) میں یہ براہِ راست ویڈیو کے اوپر نمایاں انداز میں ظاہر ہوگا۔کمپنی کے مطابق اگرچہ اب بھی تخلیق کاروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کو خود ٹیگ کریں، تاہم اب ایک نیا خودکار مواد شناختی نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے جو ویڈیوز کا تجزیہ کر کے اے آئی مواد کی نشاندہی کر سکے گا، چاہے اسے دستی طور پر ٹیگ نہ کیا گیا ہو۔یوٹیوب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی ویڈیو کو غلطی سے اے آئی سے تیار شدہ قرار دے دیا جائے تو تخلیق کار یوٹیوب اسٹوڈیو کے ذریعے اس معلومات کو درست یا اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔یہ اقدام آن لائن مواد میں شفافیت بڑھانے اور ناظرین کو اصل اور مصنوعی ذہانت سے تیار مواد میں فرق کرنے میں مدد دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔