تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

گذشتہ سال دنیا بھر میں 128 صحافی ہلاک ہوئے

گذشتہ سال دنیا بھر میں 128 صحافی ہلاک ہوئے


پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے 2025 میں دنیا بھر میں 128 صحافیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں سے نصف سے زیادہ مشرق وسطی کے علاقے میں ہلاک ہوئے۔IFJ کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلانگر نے کہا کہ یہ گزشتہ برسوں میں سب سے سنگین صورتحال ہے، اور یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ صحافیوں کے لیے عالمی سطح پر ریڈ الرٹ ہے۔ غزہ میں حماس اور اسرائیل کی لڑائی میں ایک سال کے دوران 56 صحافی جان سے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی صحافیوں پر حملے ہوئے، اور انصاف نہ ملنے کی وجہ سے قاتلوں کے لیے صورتحال مزید خطرناک بن رہی ہے۔IFJ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 533 صحافی قید ہیں، جو پچھلے پانچ سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہیں۔ چین میں سب سے زیادہ 143 صحافی قید ہیں، جبکہ ہانگ کانگ میں بھی حالات تشویشناک ہیں، جہاں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کے مطابق 2025 میں 67 صحافی اپنے کام کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ یونیسکو کی رپورٹ میں یہ تعداد 93 بتائی گئی ہے۔ IFJ نے کہا کہ مارے جانے والے صحافیوں کی گنتی میں 9 افراد ایسے بھی شامل ہیں جن کی موت حادثات کے باعث ہوئی۔انتھونی بیلانگر نے صحافیوں کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ صحافیوں کے قاتلوں کو پنپنے کا موقع نہ ملے۔