تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت

ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت

لندن ( سپورٹس ڈیسک) انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) نے ہاکی پرو لیگ کے دوران پاکستان کے قومی پرچم کی غلط نمائش پر پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ اور غیر مشروط معذرت کر لی ہے۔یہ واقعہ لندن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پرو لیگ میچ سے قبل قومی ترانوں کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں پاکستان کے پرچم میں سفید حصہ درست طور پر شامل نہیں تھا۔ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ کی ڈائریکٹر ہیلری اٹکنسن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کو لکھے گئے خط میں اس غلطی پر افسوس کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ قومی پرچم کسی بھی ٹیم کی شناخت اور وقار کی علامت ہوتا ہے، اور اس غلطی سے پاکستان ٹیم، اس کے مداحوں اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جذبات مجروح ہوئے، جس پر ادارے کو گہرا افسوس ہے۔انہوں نے اس واقعے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک انتظامی غلطی قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تمام انتظامی اور آپریشنل طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ایف آئی ایچ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ آئندہ کسی بھی ٹیم کے قومی تشخص اور وقار کے معاملے میں ایسی کوتاہی دوبارہ نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ تمام ٹیموں کے ساتھ احترام اور پیشہ ورانہ رویہ ان کی اولین ترجیح رہے گا۔