تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت

امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی سینیٹ میں پہلی بار کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کو دشمنی کی کارروائیوں سے واپس بلائیں۔واشنگٹن ڈی سی میں قائم تنظیم ’’جسٹ فارن پالیسی‘‘ نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اس مشترکہ قرارداد کو ایک تاریخی جنگ مخالف سنگ میل قرار دیا ہے۔ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے کہا ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند ہے اور اس پر عمل درآمد ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی راستے تلاش کریں گے کہ انتظامیہ کانگریس کے فیصلے پر عمل کرے۔