تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ابرار احمد کا ہدف واضح، ٹائٹل جیتنے کیلئے پُرعزم

ابرار احمد کا ہدف واضح، ٹائٹل جیتنے کیلئے پُرعزم

لاہور( سپورٹس ڈیسک) ابرار احمد نے کہا ہے کہ اس وقت ان کی مکمل توجہ اپنی باؤلنگ کو مزید مؤثر بنانے پر مرکوز ہے جبکہ بیٹنگ کی مشق کیلئے روزانہ تھوڑا وقت دینا ہی کافی سمجھتے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سپنر کا کہنا تھا کہ وہ ساتھی باؤلر عثمان طارق کے ساتھ مل کر طے شدہ منصوبے کے تحت باؤلنگ کرتے ہیں تاکہ مسلسل دباؤ کے ذریعے بیٹرز کو مشکل میں ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حریف کھلاڑی دفاعی حکمت عملی اپنائیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے، رنز کو محدود رکھا جائے اور وکٹیں حاصل کی جائیں۔ابرار احمد نے مزید کہا کہ اس بار ٹیم کی سپن، فاسٹ باؤلنگ اور بیٹنگ تینوں شعبے مضبوط ہیں، وہ نہ صرف فائنل کھیلنے بلکہ ٹائٹل جیتنے کیلئے بھی پُرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت سے مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے اور کئی نئے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ نئی ٹیمیں بھی بہتر کارکردگی دکھائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ استعمال ہونے والی وکٹیں باؤلرز، خصوصاً سپنرز کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہیں اور ٹیمیں اسی کے مطابق حکمت عملی ترتیب دیتی ہیں، جبکہ وہ ذاتی طور پر کسی نئے انداز کے بجائے اپنا روایتی جشن منانے کا طریقہ ہی پسند کرتے ہیں۔