اسلام آباد(پاکستان خبر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے فیصل آباد کی اقراء پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھ دی ہے اور کم عمری کی بنیاد پر سزا میں نرمی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تیرہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ سنگین اور پہلے سے منصوبہ بند جرائم میں کم عمری کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ تکلیف دہ جرم ہے کیونکہ قتل ایک بار زندگی ختم کرتا ہے جبکہ تیزاب کا شکار شخص عمر بھر اذیت میں رہتا ہے۔عدالت نے مجرم کو متاثرہ خاتون کو دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔فیصلے میں ہائیکورٹس کو ہدایت دی گئی کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا ٹرائل چار ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور ان کی خود نگرانی کی جائے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ تیزاب کی کھلی فروخت پر پابندی، بائیومیٹرک نظام، اور شناختی ریکارڈ کے ذریعے نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔مزید کہا گیا کہ متاثرین کے لیے قومی بحالی فنڈ قائم کیا جائے، مفت علاج اور نفسیاتی سہولتیں فراہم کی جائیں، جبکہ متاثرین کو خصوصی کوٹہ اور ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ تمام متعلقہ عدالتی و حکومتی اداروں کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
تیزاب گردی کیس: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، عمر قید برقرار، سخت قانون سازی کی ہدایت
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان