واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی جریدے ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق مختلف نظریات رکھنے والے عسکریت پسند گروہ افغانستان میں اسلحے، تربیت اور سہولت کاری کے مشترکہ نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان سے فتنہ الخوارج کے سرحد پار حملوں کا معاملہ اٹھا چکا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹس نے بھی افغانستان میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں اور طالبان حکومت کی حمایت سے متعلق خدشات کو تقویت دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مستقل پناہ گاہیں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور علاقائی روابط کو کمزور کرسکتی ہیں۔افغان نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشتگردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی تصدیق کرچکے ہیں۔