نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں جماعت کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ غیرقانونی اور خطرناک طاقت کے استعمال پر نئی تحقیق جاری کردی۔تنظیم کے مطابق 20 سے 24 جولائی کے دوران دہلی اور ریاست بہار کے شہر سیوان میں مظاہرین کے خلاف پولیس نے چھروں کی فائرنگ، آنسو گیس، لاٹھی چارج، دستی بم اور برقی جھٹکے دینے والے آلات استعمال کیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احتجاج کے دوران بنائی گئی ویڈیوز، تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا، جبکہ اس کے تحقیقاتی شعبے نے 19 ویڈیوز کی تصدیق کی۔ تنظیم کے مطابق ویڈیوز میں دہلی پولیس، فوری کارروائی فورس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار احتجاجی کارروائیوں میں نظر آتے ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس کے بعض ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے اصولوں اور بھارت کے اپنے پولیس ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ خاص طور پر چھروں کی فائرنگ، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور برقی جھٹکے دینے والے آلات کے استعمال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ایمنسٹی کے مطابق دہلی کے کناٹ پلیس اور سنسد مارگ کے قریب بنائی گئی دو ویڈیوز میں فوری کارروائی فورس کے ایک اہلکار کو ہجوم کی جانب بندوق چلاتے دیکھا گیا۔تنظیم نے مزید دو ویڈیوز کی تصدیق کی، جن میں دو مظاہرین کے جسم پر ایسے زخم دکھائی دیے جو مبینہ طور پر دھاتی چھروں سے لگنے والے زخموں سے مشابہ تھے۔ایک زخمی مظاہرین نے ایمنسٹی کو بتایا کہ پولیس نے پہلے آنسو گیس استعمال کی، جس کے بعد مبینہ طور پر بغیر وارننگ چھروں کی فائرنگ شروع کردی گئی۔ اس کے مطابق جسم پر تقریباً 25 سے 30 زخم آئے اور اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل ہونا پڑا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دھاتی چھروں والی گولیاں ہجوم پر قابو پانے کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، کیونکہ ان کے پھیلاؤ کے باعث بغیر درست نشانے کے متعدد افراد زخمی ہوسکتے ہیں۔ تنظیم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔