تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

افغانستان میں انسانی بحران شدید، نصف آبادی امداد کی محتاج: رپورٹ

افغانستان میں انسانی بحران شدید، نصف آبادی امداد کی محتاج: رپورٹ

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت کے باعث شہریوں کی زندگی مزید دشوار ہوتی جا رہی ہے۔ مختلف حلقوں کے مطابق ملک میں سیاسی، معاشی اور انسانی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً نصف آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 400 سے زائد صحت کے مراکز بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہیں۔رپورٹ کے مطابق خواتین پر عائد پابندیوں کے باعث معاشرتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور معاشرے کا ایک بڑا حصہ عملی طور پر نظام سے باہر ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچے اور جاری بحران کے باعث افغان عوام کو زیادہ تر انحصار عالمی امداد پر کرنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث انسانی بحران میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے۔