تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

الہان عمر پر حملہ، ٹاؤن ہال اجلاس میں ہنگامہ

الہان عمر پر حملہ، ٹاؤن ہال اجلاس میں ہنگامہ

واشنگٹن/منی سوٹا( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی ڈیموکریٹک مسلم رکنِ کانگریس الہان عمر پر منی سوٹا کے شہر میناپولیس میں ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران بدبودار مائع پھینکے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق واقعے میں الہان عمر کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا، جب کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔الہان عمر اس ٹاؤن ہال اجلاس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم سے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے امیگریشن اور سکیورٹی سے متعلق حالیہ واقعات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔امریکی میڈیا کے مطابق کرسٹی نوم اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر ایک واقعے کے حوالے سے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات زیرِ بحث ہیں۔ یہ معاملہ منی سوٹا میں ہونے والے ایک مظاہرے سے جڑا بتایا جا رہا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ مظاہرے کے دوران آئیس کے اہلکاروں نے ایک شخص پر فائرنگ کی تھی، جس کے بارے میں ابتدا میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مسلح تھا۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق متاثرہ شخص غیر مسلح تھا اور فائرنگ سے قبل اسے قابو میں کر لیا گیا تھا۔