تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بنگلادیش کرکٹ میں بحران سنگین، مزید استعفوں سے ہلچل تیزہو گئی

بنگلادیش کرکٹ میں بحران سنگین، مزید استعفوں سے ہلچل تیزہو گئی

بنگلادیش( سپورٹس ڈیسک)بنگلادیش کرکٹ میں جاری انتظامی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں تین مزید ڈائریکٹرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شانیان تنیم، فیض الرحمان اور محراب عالم چوہدری نے طویل اجلاس کے بعد اپنے عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کے بعد مختصر عرصے میں مستعفی ہونے والے ڈائریکٹرز کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔اس سے قبل بھی متعدد ڈائریکٹرز مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں، تاہم حالیہ استعفوں کی وجوہات باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئیں اور انہیں ذاتی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بورڈ قیادت شدید دباؤ کا شکار ہے اور گزشتہ انتخابات سے متعلق الزامات، حکومتی مداخلت اور انتظامی معاملات پر تنقید نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔دوسری جانب بورڈ کے سربراہ نے بحران کے باوجود اپنے عہدے پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذمہ داری چھوڑنے والے آخری فرد ہوں گے۔یاد رہے کہ حالیہ انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور متعلقہ حکام کو رپورٹ پیش کی جا چکی ہے، جبکہ انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔سابق کپتان کی جانب سے بھی انتخابی عمل پر اعتراض سامنے آیا تھا، جس کے بعد انہوں نے صدارتی دوڑ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔