تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بنگلادیش معاملہ، پی سی بی کا آئی سی سی خط سے لاتعلقی

بنگلادیش معاملہ، پی سی بی کا آئی سی سی خط سے لاتعلقی


لاہور( سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلادیش کے مؤقف کی حمایت میں آئی سی سی کو خط لکھے جانے سے متعلق خبروں پر لاعلمی ظاہر کر دی ہے۔ پی سی بی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے کسی خط کے حوالے سے بورڈ کو کوئی باضابطہ معلومات حاصل نہیں۔ترجمان پی سی بی کے مطابق آئی سی سی کو بنگلادیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کے معاملے پر کسی قسم کی تحریری درخواست یا خط سے بورڈ آگاہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے جو خبریں سامنے آئی ہیں، ان کا علم بھی ہمیں میڈیا کے ذریعے ہی ہوا ہے۔دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلے سے ایک روز قبل آئی سی سی کو خط لکھ کر بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے مؤقف کی حمایت کی تھی۔ان رپورٹس کے مطابق خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خطے میں موجود سیاسی حالات کے تناظر میں بنگلادیش کا بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا فیصلہ قابلِ فہم ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ خط آئی سی سی بورڈ کے دیگر اراکین کو بھی ارسال کیا گیا تھا۔تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، جس کے باعث معاملہ تاحال غیر واضح ہے۔